مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الْأَئِمَّةِ . باب: حکمرانوں کو برا کہنے کی ممانعت
وَعَنْ أَبِي مُصْبِحٍ قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِمْ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ وَثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمْ يَتَذَاكَرُونَ ، فَقَالُوا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْخَيْرِ وَإِنَّهُ لَمُنَافِقٌ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ مُنَافِقًا وَهُوَ يُؤْمِنُ بِكَ ؟ قَالَ : " يَلْعَنُ الْأَئِمَّةَ وَيَطْعَنُ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي قَيْسٍ الشَّامِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ابومصبح بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب کے پاس بیٹھا ہوا تھا جن میں سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ لوگ بات چیت کر رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک شخص اس اس طرح کا بھلائی کا کام کرے گا حالانکہ وہ منافق ہو گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کیسے منافق ہو گا جبکہ وہ آپ پر ایمان بھی رکھتا ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ حکمرانوں پر لعنت کرے گا ، اور ان پر طعن کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوقیس شامی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔