مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُرَائِي الْأُمَرَاءَ . باب: اس شخص کا بیان جو اُمراء کو دکھاوا کرے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَا أَخْشَى عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا " . قُلْتُ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ إِنْ طَالَ بِكَ عُمُرٌ رَأَيْتَهُمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ ، حَتَّى يُرَى النَّاسُ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ مَرَّةً إِلَى هَذَا وَمَرَّةً إِلَى هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے قریش کے بارے میں صرف ان کی اپنی ذات کے حوالے سے اندیشہ ہے میں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کنجوس ہوں گے اور بڑے پیٹ والے ہوں گے ( یعنی مال اکٹھا کریں گے ) اگر تمہاری عمر طویل ہوئی تو تم ان لوگوں کو دیکھو گے کہ وہ دوسرے لوگوں کو آزمائش کا شکار کریں گے ، یہاں تک کہ ( دوسرے ) لوگ ان ( قریش ) کے درمیان یوں دکھائی دیں گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکری ہوتی ہے ، جو کبھی ادھر جاتی ہے اور کبھی ادھر جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔