حدیث نمبر: 9233
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ ذَهَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِي يَلْبَسُ ثِيَابَهُ لِيَلْحَقَنِي فَقَالَ وَنَحْنُ عِنْدُهُ " لِيَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ لَعِينٌ " فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ وَجِلًا أَتَشَوَّفُ خَارِجًا وَدَاخِلًا حَتَّى دَخَلَ فُلَانٌ - يَعْنِي الْحَكَمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : حَتَّى دَخَلَ الْحَكَمُ بْنُ أَبِي الْعَاصِي . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کپڑے پہننے ( یعنی تبدیل کرنے ) کے لئے گئے ، اُن کا ہم سے آ کے ملنے کا ارادہ تھا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابھی تم لوگوں کے سامنے ایک لعین شخص آئے گا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں پریشانی کے عالم میں ، ہر آنے جانے والے کو غور سے دیکھتا رہا ، یہاں تک کہ فلاں شخص آ گیا ، اُن کی مراد حکم تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” یہاں تک کہ حکم بن ابوالعاص آ گیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9233
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1625) اخرجه احمد فى المسند (6520)»