مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَئِمَّةِ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ وَأَئِمَّةِ الضَّلَالَةِ . باب: ظلم کرنے والے حکمران اور گمراہی والے حکمران
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى الْكَعْبَةِ وَهُوَ يَقُولُ : وَرَبِّ هَذِهِ الْكَعْبَةِ لَقَدْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُلَانًا وَمَا وُلِدَ مِنْ صُلْبِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : لَقَدْ لَعَنَ اللَّهُ الْحَكَمَ - وَمَا وُلِدَ - عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَعِنْدَهُ رِوَايَةٌ كَرِوَايَةِ أَحْمَدَ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سنا ، انہوں نے اُس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور وہ یہ بیان کر رہے تھے : رب کعبہ کی قسم ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم نے فلاں شخص پر لعنت کی ہے اور وہ ابھی اپنے باپ کی پشت سے پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے ، اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ، حکم پر لعنت کی تھی ، حالانکہ وہ اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا ۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، انہوں نے ایک روایت امام أحمد کی روایت کی مانند بھی نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔