حدیث نمبر: 9223
وَعَنْ مَهْدِيٍّ قَالَ : قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : كَيْفَ أَنْتَ يَا مَهْدِيُّ إِذَا ظُهِرَ بِخِيَارِكُمْ وَاسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ أَحْدَاثُكُمْ وَشِرَارُكُمْ وَصُلِّيَتِ الصَّلَاةُ لِغَيْرِ وَقْتِهَا ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي . قَالَ : لَا تَكُنْ جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا وَلَا شُرَطِيًّا وَلَا بَرِيدًا . وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا . ¤ وَمَهْدِيٌّ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

مہدی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے مہدی ! اُس وقت تمہارا کیا بنے گا ؟ جب تمہارے بہترین لوگ مغلوب ہو جائیں گے اور تم پر کم عمر اور برے لوگ حکمران بن جائیں گے ، اور نماز کو اُس کے مخصوص وقت کے علاوہ ادا کیا جائے گا ، میں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ! انہوں نے فرمایا : تم جابی ، یا عریف ، یا کوتوال ، یا برید ( یعنی سرکاری اہلکار ) نہ بننا ، اور نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کر لینا ۔ مہدی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9223
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9498)»