حدیث نمبر: 9214
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ - وَكَانَ عُمَرُ وَلَّاهُ حِمْصَ - قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِكَعْبٍ : إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ فَلَا تَكْتُمْنِي قَالَ : وَاللَّهِ مَا أَكْتُمُكَ شَيْئًا أَعْلَمُهُ قَالَ : مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَئِمَّةً مُضِلِّينَ . قَالَ عُمَرُ : صَدَقْتَ ، قَدْ أَسَرَّ ذَلِكَ إِلَيَّ وَأَعْلَمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عمیر بن سعد ، جنہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ” حمص “ کا والی مقرر کیا تھا ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کعب ( احبار ) سے کہا: میں تم سے ایک چیز کے بارے میں دریافت کرنے لگا ہوں ، تم نے وہ مجھ سے نہیں چھپانی ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ سے ایسی کوئی چیز نہیں چھپاؤں گا ، جس کا میں علم رکھتا ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہیں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے حوالے سے ، سب سے زیادہ اندیشہ کس بات کا ہے ؟ تو کعب ( احبار ) نے جواب دیا : گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے ، نبی اکرم نے مجھے اس بارے میں بتایا تھا ، اور مجھے راز داری کے ساتھ یہ بات بتائی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9214
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (293)»