حدیث نمبر: 9205
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ : رَجُلٌ أَتَى قَوْمًا عَلَى إِسْلَامٍ دَامِجٍ فَشَقَّ عَصَاهُمْ حَتَّى اسْتَحَلُّوا الْمَحَارِمَ وَسَفَكُوا الدِّمَاءَ ، وَسُلْطَانٌ جَائِرٌ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ " . وَسَكَتَ سُفْيَانُ عَنِ الثَّالِثَةِ فَلَمْ يَذْكُرْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ، وَهُوَ صَدُوقٌ كَثِيرُ الْوَهْمِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ تین قسم کے لوگوں کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا اور ان کا تزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہو گا ، ( پہلا ) وہ شخص ، جو کچھ لوگوں کے پاس آئے اور وہ لوگ اسلام پر گامزن ہوں ، اور پھر وہ اُن کے عصا کو چیر دے یہاں تک کہ وہ لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دیں اور خون بہائیں ، اور ( دوسرا شخص ) وہ ظالم حکمران ، جو یہ کہے کہ جس نے میری اطاعت کی ، اُس نے اللہ کی اطاعت کی ، اور جس نے میری نافرمانی کی ، اُس نے اللہ کی نافرمانی کی “ ۔ سفیان نامی راوی نے تیسرے شخص کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن بشار رمادی ہے اور وہ صدوق ہے اور بکثرت وہم کا شکار ہونے والا شخص ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف