مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْكَلَامِ بِالْحَقِّ عِنْدَ الْأَئِمَّةِ . باب: حکمرانوں کے سامنے حق بات کرنا
وَعَنْ عُمَرَ اللَّيْثِيِّ قَالَ : كَانَ فِي نَفْسِي مَسْأَلَةٌ قَدْ أَحْزَنَتْنِي لَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا ، وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَسْأَلُهُ عَنْهَا ، فَكُنْتُ أَتَحَيَّنُهُ ، فَدَخَلْتُ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَوَافَقْتُهُ عَلَى حَالَتَيْنِ كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أُوَافِقَهُ عَلَيْهِمَا ، وَجَدْتُهُ فَارِغًا طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَسْأَلَكَ ؟ قَالَ : " سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " الصَّبْرُ وَالسَّمَاحَةُ " قُلْتُ : فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُهُمْ إِيمَانًا ؟ قَالَ : " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُهُمْ إِسْلَامًا ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ " . قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ فَطَأْطَأَ رَأْسَهُ فَصَمَتَ طَوِيلًا حَتَّى خِفْتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَيْهِ ، وَتَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ سَأَلْتُهُ وَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ بِالْأَمْسِ : " إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا لَمَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَيْهِمْ فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ " . فَقُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : " كَيْفَ قُلْتَ ؟ " . قُلْتُ : أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي إِنْكَارِ الْمُنْكَرِ فِي الْفِتَنِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عمر لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ذہن میں ایک مسئلہ تھا ، جس نے مجھے غمگین کیا ہوا تھا کہ میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیوں دریافت نہیں کیا ، اور میں نے کسی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے سنا بھی نہیں ، میں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا ، ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت وضو کر رہے تھے ، میں نے آپ کو دو حوالوں سے ایسی صورتحال میں پایا کہ میری خواہش تھی کہ مجھے وہ صورتحال نصیب ہو جاتی ، میں نے آپ کو پایا کہ آپ کو فراغت حاصل تھی ، اور آپ کا مزاج خوشگوار تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ سے ایک سوال کروں ، نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں جو مناسب لگتا ہے تم پوچھ لو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان کیا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : صبر اور نرمی ، میں نے دریافت کیا : اہل ایمان میں ، ایمان کے حوالے سے کون زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں ، میں نے دریافت کیا : مسلمانوں میں کون ، اسلام کے حوالے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ ہوں ، میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور خاصی دیر خاموش رہے ، یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ شاید میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری کا شکار کر دیا ہے ، میری یہ آرزو ہوئی کہ میں نے آپ سے سوال نہ کیا ہوتا ، کیونکہ اُس سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سن چکا تھا : ” مسلمانوں میں سب سے زیادہ گناہ ، اس شخص کو ہوتا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے ، جو ان لوگوں پر حرام نہ تھی اور اُس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے ، وہ چیز حرام ہو جائے “ تو میں نے یہ کہا: میں اللہ تعالیٰ کے غضب اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب سے ، اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، پھر نبی اکرم نے اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا : تم نے کیا کہا: تھا ؟ میں نے عرض کی : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم نے ارشاد فرمایا : ” ظالم حکمران کے سامنے ، عدل ( یعنی حق ) کی بات کہنا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ، فتنوں سے متعلق باب میں ، منکر کا انکار کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔