مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْخُرُوجِ عَنِ الْأُمَّةِ وَقِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا ، امت سے خروج اور ان سے جنگ کرنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْفَظُونِي فِي أَصْحَابِي ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ ، حَتَّى يَشْهَدَ الرَّجُلُ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدَ ، وَحَتَّى يَحْلِفَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ ، وَيَبْذُلَ نَفْسَهُ بِخَطْبِ الزُّورِ ، فَمَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، وَمَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ( عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ) إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْبَابِ قَبْلَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری وجہ سے میرے اصحاب کا دھیان رکھنا پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر ان کے بعد والے لوگ ہیں پھر جھوٹ ظاہر ہو گا پھر کسی شخص سے گواہی نہیں مانگی گئی ہو گی لیکن وہ پھر بھی گواہی دے گا ، اور کسی شخص سے حلف نہیں مانگا گیا ہو گا ، لیکن وہ پھر بھی حلف اٹھا لے گا وہ جھوٹ کے بیان کے عوض میں اپنے آپ کو خرچ کرے گا ، جو شخص جنت کے درمیان میں رہنا چاہتا ہو وہ جماعت کے ساتھ رہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے ، اور شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے ، اور وہ دو سے زیادہ دور ہوتا ہے ، اور کوئی مرد کسی ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو کیونکہ ان دونوں کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا ، اور جس شخص کو اپنی برائی بری لگے ، اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خالد مصیصی ہے ، اور وہ متروک ہے اس سے پہلے والے باب میں اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہیں ۔