حدیث نمبر: 9136
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيَاسَ أَوْ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ إِمَامٌ فَمِيتَتُهُ مِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ، وَمَنْ مَاتَ تَحْتَ رَايَةِ عَصَبِيَّةٍ ( يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً ) فَقِتْلَتُهُ قِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جماعت سے بالشت بھر الگ ہو جائے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو وہ اپنی گردن سے اسلام کا پٹہ اتار دیتا ہے ، اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ اس پر کوئی امام نہ ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوتی ہے ، اور جو شخص کسی عصبیت کے جھنڈے کے تحت مرے کہ وہ عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہو تو اس کا قتل جاہلیت کا قتل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9136
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1634) أخرجه الطبراني فى المعجم الكسر (10687)»