مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ لُزُومِ الْجَمَاعَةِ وَطَاعَةُ الْأَئِمَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ قِتَالِهِمْ . باب: جماعت کے ساتھ رہنا حکمرانوں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ جنگ کرنے کی ممانعت
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا : عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ : قَدِمْتُ الشَّامَ أَلْتَمِسُ الْفَرِيضَةَ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ النَّاسُ فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : عَمْرٌو الْبِكَالِيُّ أُصِيبَتْ يَدُهُ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ يَوْمَ أَجْلَتِ الرُّومُ مِنَ الشَّامِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْعَتَكِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں : میں شام آیا میں فریضہ تلاش کر رہا تھا وہاں ایک صاحب موجود تھے جن کے گرد لوگ چکر لگا رہے تھے میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ لوگوں نے بتایا یہ سیدنا عمرو بکالی رضی اللہ عنہ ہیں جن کا ہاتھ جنگ یرموک میں ضائع ہو گیا تھا یہ اس موقع کی بات ہے کہ جب رومیوں کو شام سے جلاوطن کر دیا گیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر عتکی ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔