حدیث نمبر: 9100
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَنْ تَجْتَمِعَ أُمَّتِي عَلَى ضَلَالَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ يَدَ اللَّهِ عَلَى الْجَمَاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مَرْزُوقَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہو گی تم پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے بے شک اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ان دو میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں صرف مرزوق کا معاملہ مختلف ہے جو آل طلحہ کا غلام ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12623)»