حدیث نمبر: 9058
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مُخَلَّدٍ أَنْ سَلْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِي : هَلْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا حَقَّهُ مِنْ قَوِيِّهَا وَهُوَ غَيْرُ مُضْطَهَدٍ " . فَإِنْ قَالَ : نَعَمْ فَاحْمِلْهُ عَلَى الْبَرِيدِ . فَسَأَلَهُ فَقَالَ : نَعَمْ . فَحَمَلَهُ عَلَى الْبَرِيدِ مِنْ مِصْرَ إِلَى الشَّامِ فَسَأَلَهُ مُعَاوِيَةُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ربیعہ بن یزید بیان کرتے ہیں : سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمہ بن مخلد کو خط لکھا کہ تم سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے سوال کرو : کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کی جاتی ہے جس کا کمزور فرد اس کے طاقتور فرد سے اپنا حق ، پریشانی کے بغیر نہیں لے سکتا “ ۔ اگر وہ جواب دیں جی ہاں ، تو تم اس کو لکھ کر ڈاک کے ذریعے بھجوا دینا مسلمہ بن مخلد نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو مسلمہ بن مخلد نے یہ تحریر کر کے ڈاک کے ذریعے مصر سے شام بھجوایا جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا تھا ، اور جو انہوں نے بتایا تھا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، لیکن میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں اس بارے میں مزید تحقیق کر لوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9058
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (387/19)»