مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الخلافة— خلافت کے بارے میں روایات
بَابُ الْخِلَافَةِ فِي قُرَيْشٍ وَالنَّاسُ تَبَعٌ لَهُمْ . باب: خلافت کا قریش میں ہونا اور لوگوں ، ان کے پیروکار ہونا
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ فِي طَائِفَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ فَكَشَفَ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَقَبَّلَهُ وَقَالَ : فِدَاؤُكَ أَبِي وَأُمِّي مَا أَطْيَبَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا ، مَاتَ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ يَتَقَاوَدَانِ حَتَّى أَتَوْهُمْ ، فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ وَلَا ذَكَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَأْنِهِمْ إِلَّا ذَكَرَهُ ، قَالُوا : وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْ سَلَكَتِ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا سَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ " . وَلَقَدْ عَلِمْتَ يَا سَعْدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ وَأَنْتَ قَاعِدٌ : " قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ ، فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ ، وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : صَدَقْتَ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ - وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ - وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ . ¤حمید بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے وہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے کپڑا ہٹایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیا اور پھر بولے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ زندہ ہونے اور وصال فرمانے کے بعد کتنے پاکیزہ ہیں ! رب کعبہ کی قسم ! سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے گئے یہاں تک کہ انصار کے پاس آئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی ، تو کوئی ایسی چیز ترک نہیں کی جس کے بارے میں قرآن نازل ہوا ہو یا جس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو جس کا تعلق ان کے معاملے سے تھا وہ ہر چیز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ذکر کر دی لوگوں نے کہا: آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا “ ۔ ( تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اے سعد ! تم یہ بات جانتے ہو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو تم بھی اس وقت وہاں موجود تھے ( آپ نے فرمایا تھا : ) ” قریش اس معاملے کے نگران بنیں گے لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیک لوگوں کے پیروکار ہوں گے اور لوگوں میں سے برے لوگ ان کے برے لوگوں کے پیروکار ہوں گے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے سچ کہا: ہے ہم لوگ وزیر ہوں گے اور آپ لوگ امیر ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ صحیح میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے البتہ حمید بن عبدالرحمن نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔