حدیث نمبر: 8964
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَكُونُ إِمَارَةً وَرَحْمَةً ، ثُمَّ يَتَكَادَمُونَ عَلَيْهَا تَكَادُمَ الْحَمِيرِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجِهَادِ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ جِهَادِكُمُ الرِّبَاطُ ، وَإِنَّ أَفْضَلَ رِبَاطِكُمْ عَسْقَلَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس معاملے کا آغاز نبوت اور رحمت سے ہو گا پھر خلافت اور رحمت ہو گی پھر بادشاہی اور رحمت ہو گی پھر حکمرانی اور رحمت ہو گی اور پھر لوگ اس کے حوالے سے یوں ایک دوسرے کو کاٹیں گے جس طرح گدھے ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں ، تو تم پر جہاد کرنا لازم ہے ، اور تمہارے جہاد میں سب سے زیادہ فضیلت پہریداری کو حاصل ہے ، اور تمہاری سب سے زیادہ فضیلت والی پہریداری عسقلان میں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (11138)»