حدیث نمبر: 8923
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ ، وَهُوَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُ خَيْرَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَخْلَفُهُ عَلَيْهِمْ وَهُوَ عُمَرُ ، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ - أَوْ قُتِلَ - نَظَرَ الْمُسْلِمُونَ خَيْرَهُمْ فَاسْتَخْلَفُوهُ وَهُوَ عُثْمَانُ ، إِنْ تَقْتُلُوهُ فَائْتَوِنِي بِخَيْرٍ مِنْهُ وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَفْعَلُوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے پھر جب ان کا انتقال ہوا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور اسے اپنا خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو مسلمانوں نے اپنے سب سے بہتر شخص کا جائزہ لیا اور انہیں خلیفہ بنا دیا اور وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے اگر تم انہیں قتل کر دو گے ، تو تم میرے پاس ایسے فرد کو لے آؤ جو ان سے زیادہ بہتر ہو اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں سمجھتا کہ تم ایسا کر پاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن حسان عطار ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8923
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13232)»