حدیث نمبر: 8914
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نَقُولُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ نَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ نَقُولُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قُبِضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَنْ يَكُونُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ ؟ فَنَقُولُ : عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم یہ کہا: کرتے تھے کہ اس معاملہ ( یعنی خلافت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ ہم کہا: کرتے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے کہ اگر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جائے ، تو اس معاملے ( یعنی حکومت ) کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ، تو ہم یہ کہتے تھے ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پھر ہم یہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو جاتا ہے ، تو اس معاملے کا سب سے زیادہ حق دار کون ہو گا ؟ تو ہم یہ کہتے تھے : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 8914
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13391)»