مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَاثِيلِ وَالصُّوَرِ . باب: تماثیل اور تصویروں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ : " أَيُّكُمْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلَا يَدَعُ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرَهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّاهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخَهَا ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَابَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، [ فَرَجِعَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا انْطَلِقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ . ] قَالَ : فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَدَعْ بِهَا وَثَنًا إِلَّا كَسَرْتُهُ ، وَلَا قَبْرًا إِلَّا سَوَّيْتُهُ ، وَلَا صُورَةً إِلَّا لَطَّخْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ إِلَى صَنْعَةِ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " لَا تَكُونَنَّ مُخْتَالًا ، وَلَا فَتَّانًا ، وَلَا تَاجِرًا إِلَّا تَاجَرَ خَيْرٍ ، فَإِنَّ أُولَئِكَ هُمُ الْمُسَوِّفُونَ بِالْعَمَلِ " . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کون مدینہ جائے گا ، اور وہاں موجود ہر بت کو توڑ دے گا ، اور ہر قبر کو برابر کر دے گا ، اور ہر تصویر کو خراب کر دے گا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں راوی کہتے ہیں لیکن وہ اہل مدینہ سے ڈر گیا اور واپس آ گیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں جاتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم چلے جاؤ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے وہ واپس آئے ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہاں موجود ہر بت کو توڑ دیا ہے ہر قبر کو برابر کر دیا ہے ، اور ہر تصویر کو خراب کر دیا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ان میں سے کوئی کام دوبارہ کرے گا وہ اس چیز کا کفر کرے گا ، جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم تکبر کرنے والے آزمائش کا شکار کرنے والے اور تجارت کرنے والے نہ ہونا البتہ بھلائی کی تجارت کرنے والے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو عمل کو ٹالتے رہتے ہیں ( کہ میں عنقریب ایسا کر لوں گا ) “ ۔