حدیث نمبر: 8792
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ ، فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا قُحَافَةَ شَيْخٌ كَبِيرٌ وَإِنَّهُ بِنَاحِيَةِ مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُمْ بِنَا إِلَيْهِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَأْتِيَكَ فَجِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ وَلِحْيَتَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، وَثَّقَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرہانے کھڑے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ ایک عمر رسیدہ شخص ہیں اور وہ مکہ کے کنارے پر موجود ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہمیں لے کر ان کی طرف چلو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ آپ کے پاس آئیں پھر سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا تو ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغامہ ( نامی پھول کی طرح سفید تھے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے تبدیل کر دو ! لیکن سیاہ رنگ استعمال کرنے سے بچنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیج ہے ، جسے یحیی القطان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8792
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف