حدیث نمبر: 8774
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ لَا يُغَيِّرُ شَيْبَهُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تُغَيِّرُ ، فَقَدْ كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُغَيِّرُ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " وَمَا إِنَّا نُغَيِّرُ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے سفید بال متغیر نہیں کرتے تھے ( یعنی ان پر خضاب نہیں لگاتے تھے ) ان سے اس بارے میں بات کی گئی ، اے امیرالمؤمنین ! آپ ان کا متغیر نہیں کرتے جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ متغیر کر لیتے تھے ( یعنی خضاب لگا لیتے تھے ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے اسلام کے دوران بال سفید ہو جائیں ، تو یہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوں گے “ ۔ ( پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں ، اس میں سے کچھ بھی تبدیل نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8774
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1846) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (58)»