مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّيْحَانِ وَالطِّيبِ . باب: ریحان اور خوشبو کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حَرْبِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ فِي يَوْمِ الْجُمْعَةِ وَهُوَ يَقُولُ : " قَدْ أَمَرْنَا لِلنِّسَاءِ بِوَرْسٍ وَأَبَرٍ ، فَأَمَّا الْوَرْسُ فَأَتَاهُنَّ مِنَ الْيَمَنِ ، وَأَمَّا الْأَبَرُ فَأخَذَ مِنْ نَاسٍ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ مِمَّا عَلَيْهِمْ مِنَ الْجِزْيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ زِيَادٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حرب بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کے دن منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہم نے خواتین کے لئے ورس اور ابر کا حکم دیا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) جہاں تک ورس کا تعلق ہے ، تو یہ خواتین کے پاس یمن سے آتی تھی جہاں تک ابر کا تعلق ہے ، تو یہ لوگ ذمیوں سے لیا کرتے تھے جو اس چیز کے بدلے میں ہوتی تھی ، جو ان پر جزیہ لازم ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن زیاد محاربی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اسے ضعیف بھی قرار نہیں دیا اور اس کی ، توثیق بھی نہیں کی اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔