مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلُوقِ . باب: خلوق ( نامی مخصوص قسم کی خوشبو ) کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ ، وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا ، فَجِئْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الْذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ ، فَقِيلَ لِي : إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ : " عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَاءُ تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ يَعْلَى نَفْسِهِ وَهَذَا عَنْ يَعْلَى عَنْ أَبِيهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے پہلے ہمارے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور ہمارے لئے برکت کی دعا کرتے تھے ایک دن میں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دائیں اور بائیں افراد کے چہروں پر ہاتھ پھیر دیا اور مجھے چھوڑ دیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ میں اپنی بہن کے پاس گیا تھا اس نے میرے چہرے پر تھوڑا زرد رنگ ( یا خلوق نامی خوشبو ) لگا دی تھی مجھے بتایا گیا کہ اللہ کے رسول نے تمہیں اس لئے چھوڑ دیا ہے ، کیونکہ انہوں نے تمہارے چہرے پر ( زرد رنگ ) دیکھا ہے ، میں ایک کنویں کے پاس گیا اور میں اس میں داخل ہو گیا پھر میں نے غسل کیا پھر میں اگلی نماز میں شامل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ، تو آپ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ، اور فرمایا : علاء اپنے بہتر دین کے ساتھ واپس آیا ہے اس نے توبہ کی ہے ، اور آسمان نے بارش نازل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور یہاں یہ سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔