مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ . باب: انگوٹھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَتَى بَعْضُ بَنِي جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْسِلْ مَعِي مَنْ يَشْتَرِي لِي نَعْلًا وَخَاتَمًا ، فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا فَقَالَ : " انْطَلِقْ إِلَى السُّوقِ فَاشْتَرِ لَهُ نَعْلًا ، وَاسْتَجِدَّهَا ، وَلَا تَكُنْ سَوْدَاءَ ، ، وَاشْتَرِ لَهُ خَاتَمًا ، وَلْيَكُنْ فَصُّهُ مِنْ عَقِيقٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبِ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ایک صاحبزادے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ میرے ساتھ کسی ایسے شخص کو بھیجیں جو میرے لئے جوتا اور انگوٹھی خرید ہوے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم بازار جاؤ اور اس کے لئے جوتا خریدو اور نیا خریدنا اور وہ سیاہ رنگ کا نہ ہو اور اس کے لئے انگوٹھی خریدو اور اس کا نگینہ عقیق ہونا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔