مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْخَاتَمِ . باب: انگوٹھی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : أَقْبَلُ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرِينِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَجُبَّةُ حَرِيرٍ ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا ، فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَتْ لَهُ : لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ جُبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ فَأَلْقِهِمَا ، فَأَلْقَاهُمَا ثُمَّ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي ؟ قَالَ : " كَانَ فِي يَدِكِ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ " . قَالَ : لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ . قَالَ : " إِنَّمَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ أَغْنَى عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " . قَالَ : فَمَا أَتَخَتَّمُ بِهِ ؟ قَالَ : " حَلْقَةٌ مِنْ وَرِقٍ أَوْ حَدِيدٍ أَوْ صُفْرٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ طَرَفًا مَنْ أَوَّلِهِ يَسِيرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَأَبُو النَّجِيبِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص بحرین سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس نے ریشمی جبہ پہنا ہوا تھا وہ شخص پریشان ہو کر واپس چلا گیا اس نے اس بات کی شکایت اپنی بیوی کے سامنے کی ، تو اس کی بیوی نے اس سے کہا: شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارا جبہ اور تمہاری انگوٹھی پسند نہیں آئی تم ان دونوں کو اتار دو اس نے ان دونوں کو اتار دیا اگلے دن جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے پاس پہلے آیا تھا تو آپ نے مجھ سے منہ موڑ لیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا اس نے عرض کی : ایسی صورت میں ، تو میں بہت سے انگارے لے کے آیا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم وہ چیز لے کے آئے ہو جو ہمارے نزدیک پتھریلی زمین کے پتھروں سے زیادہ اہم نہیں ہے یہ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اس شخص نے دریافت کیا : پھر میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چاندی یا لوہے یا پیتل کے چھلے والی ( انگوٹھی پہنو ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ابتدائی کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ابونجیب نامی راوی کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔