حدیث نمبر: 8728
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَبِسَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَلَمَّا رَآهُ أَصْحَابُهُ ، فَشَتْ عَلَيْهِمْ خَوَاتِيمُ الذَّهَبِ ، فَرَمَى بِهِ ، فَلَا يَدْرِي مَا فُعِلَ بِهِ ؟ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَأَمَرَ أَنْ يُنْقَشَ فِيهِ : " مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ " . فَكَانَ فِي يَدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ عُمَرَ حَتَّى مَاتَ ، وَفِي يَدِ عُثْمَانَ سَنَتَيْنِ مِنْ عَمَلِهِ ، فَلَمَّا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْكُتُبُ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ فَخَرَجَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى قُلَيْبٍ لِعُثْمَانَ فَسَقَطَ مِنْهُ ، فَلَمْ يُوجَدْ ، فَأَمَرَ بِخَاتَمٍ مِثْلِهِ وَنَقَشَ فِيهِ : مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی تین دن تک پہنی جب آپ کے اصحاب نے آپ کو دیکھا تو انہوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں پہن لیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار دیا ہمیں نہیں پتہ کہ اس کا کیا ہوا ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور یہ حکم دیا کہ اس پر ” محمد رسول اللہ “ نقش کیا جائے وہ انگوٹھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہی یہاں تک کہ آپ کا وصال ہو گیا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ ان کا وصال ہو گیا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دو سال رہی جب ان کے پاس تحریریں زیادہ ہو گئیں ، تو انہوں نے وہ ایک انصاری شخص کے حوالے کر دی وہ اس کے ذریعے مہر لگا دیتا تھا ایک مرتبہ وہ انصاری شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک گڑھے ( یا کنویں ) کی طرف گیا تو وہ انگوٹھی اس سے گر گئی پھر وہ نہیں ملی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کے جیسی ایک انگوٹھی تیار کرنے کا حکم دیا اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کروایا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مغیرہ بن زیاد ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2992)»