حدیث نمبر: 8708
وَعَنْ زَيْنَبِ بِنْتِ نَبِيطِ بْنِ جَابِرٍ امْرَأَةِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : أَوْصَى أَبُو أُمَامَةَ بِأُمِّي وَخَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ حُلِيٌّ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ يُقَالُ لَهُ : الرِّعَاثُ فَحَلَّاهُنَّ مِنَ الرِّعَاثِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مُحَمَّدَ بْنَ عُمَارَةَ الْحَزْمِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِنْ كَانَتْ زَيْنَبُ صَحَابِيَّةً . ¤
محمد محی الدین

سیده زینب بنت نبیط بن جابر رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے میری والدہ اور میری خالہ کو یہ تلقین کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے اور موتیوں کا زیور آیا ہے ، جسے ” رعاث “ کہا: جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین کو رعاث نامی زیور پہننے کے لئے دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمارہ حزمی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا صحابیہ ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8708
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح