مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ . باب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْرَجَ فِي يَدِهِ قِطْعَةً مِنْ ذَهَبٍ وَقِطْعَةً مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحَلَالٌ لِإِنَاثِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : صَدُوقٌ يَهِمُ ، وَفِي الْآخَرِ إِسْلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں سونے کا ایک ٹکڑا اور ریشم کا ایک ٹکڑا نکالا اور ارشاد فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی خواتین کے لیے حلال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے یہ صدوق ہے ، لیکن وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اور دوسری روایت میں ایک راوی اسلام طویل ہے ، اور وہ متروک ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔