مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ . باب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8651
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ جُبَّةُ سُنْدُسٍ فَمَا رَأَيْنَا مُنْذُ زَمَانٍ أَجْمَلَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَقَامَ فَزِعًا فَنَزَعَهَا ثُمَّ خَرَجَ فِي بُرْدِ حِبَرَةٍ فَقَالَ : " الْحَرِيرُ لِبَاسُ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ بَكْرِ بْنِ دَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے جسم پر سندس کا جبہ موجود تھا ہم نے ایک طویل عرصے سے اس سے زیادہ خوبصورت لباس نہیں دیکھا تھا ، پھر آپ پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے اسے اتار دیا پھر آپ حبرہ کی چادر پہن کر تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : ” ریشیم اہل جنت کا لباس ہے جو شخص دنیا میں اسے پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن بکر بن داب ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔