مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي النِّعَالِ وَالْخِفَافِ . باب: جوتا پہننے اور موزے پہننے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا كَانَ مُنْتَعِلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ أَحْمَدُ : لَا بَأْسَ بِهِ فِي نَفْسِهِ . وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ مِمَّنْ يُحْتَمَلُ وَيُكْتَبُ حَدِيثُهُ . وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کثرت سے جوتے استعمال کرو ( یعنی زیادہ تر جوتا استعمال کیا کرو ) کیونکہ تم میں سے کوئی ایک شخص جب تک جوتا پہنے ہوئے ہوتا ہے وہ مسلسل سوار کی طرح ( آرام دہ حالت میں ) ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : اس کی ذات میں کوئی حرج نہیں ہے ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جن سے علم حاصل کیا جائے ، اور جن کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔