حدیث نمبر: 8614
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ ، وَعِنْدَهَا أُخْتُهَا أَسْمَاءُ ، وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ سَابِغَةٌ وَاسِعَةٌ الْأَكِمَّةِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فَخَرَجَ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : تَنَحَّيْ فَقَدْ رَأَى مِنْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرًا كَرِهَهُ ، فَتَنَحَّتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ لِمَ قَامَ ؟ فَقَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى هَنَاتِهَا إِنَّهُ لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ أَنْ يَبْدُوَ مِنْهَا إِلَّا هَكَذَا " وَأَخَذَ كُمَّيْهِ فَغَطَّى بِهِمَا ظَهْرَ كَفَّيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ مِنْ كَفَّيْهِ إِلَّا أَصَابِعُهُ ثُمَّ نَصَبَ كَفَّيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ إِلَّا وَجْهُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ثِيَابٌ شَامِيَّةٌ " بَدَلَ : " سَابِغَةٍ " . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اس وقت ان کی بہن سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں اور انہوں نے کھلا کپڑا پہنا ہوا تھا جس کی آستین بھی کھلی تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو آپ اٹھے اور تشریف لے گئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف سے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جو آپ کو ناگوار گزری ہے وہ ہٹ گئیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا : آپ کیوں اٹھ گئے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اس بھولی خاتون کی طرف نہیں دیکھا کسی مسلمان عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے جسم میں سے کچھ بھی ظاہر ہو البتہ اتنے کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آستینیں پکڑ کر ان کے ذریعے اپنی ہتھیلی کی پشت کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ ہتھیلی میں سے صرف انگلیاں ظاہر ہو رہی تھیں پھر آپ نے اپنی ہتھیلیاں اپنی کنپٹیوں پر رکھیں یہاں تک کہ صرف چہرہ ظاہر ہو رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : شامی کپڑے ، انہوں نے لفظ ” بڑے “ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (142/24)»