حدیث نمبر: 860
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُغْلَبُ ، وَلَا يُخْلَبُ ، وَلَا يُنَبَّأُ بِمَا لَا يَعْلَمُ ، مَنْ يُرِدِ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَمَنْ لَمْ يُفَقِّهْهُ لَمْ يُبَالِ بِهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهَ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُهُ فِي الدِّينِ " - وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کو مغلوب نہیں کیا جا سکتا اور اسے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، اور اُسے کسی ایسی چیز کی اطلاع نہیں دی جا سکتی ، جس کا اسے علم نہ ہو ، جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لیتا ہے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے ، اور جس شخص کو وہ دین کی سمجھ بوجھ عطا نہیں کرتا ہے ، اُس کی وہ کوئی پرواہ نہیں کرتا ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور صحیح میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” جس شخص کے بارے میں اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کر لے ، اُسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے “ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، ولکن الحدیث صحیح لورودہ فی الصحیحین۔
تخریج حدیث «أخرجه الامام احمد فى مسنده 93/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 369/19 اخرجه الامام ابو يعلى فى مسنده 7343»