حدیث نمبر: 8573
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : حِيكَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حُلَّةٌ مِنْ أَنْمَارٍ مِنْ صُوفٍ أَسْوَدَ ، وَجَعَلَ لَهَا ذُؤَابَتَيْنِ مِنْ صُوفٍ أَبْيَضَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَجْلِسِ وَهِيَ عَلَيْهِ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِهِ فَقَالَ : " أَلَا تَرَوْنَ مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْحُلَّةَ ؟ " فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْسُنِي هَذِهِ الْحُلَّةَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ شَيْئًا لَمْ يَقُلْ لِشَيْءٍ يَسْأَلُهُ : لَا . قَالَ : " نَعَمْ " فَدَعَا بِمُعَقَّدَتَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ الْحُلَّةَ ، وَأَمَرَ بِمِثْلِهَا تُحَاكُ فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ فِي الْمُحَاكَةِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْمِشْمَلَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سیاہ اون کی چادر سے بنا ہوا حلہ تیار کیا گیا آپ نے اس کے سفید اون سے بنے ہوئے دو بازو بنوائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر محفل میں تشریف لائے وہ آپ نے پہنا ہوا تھا وہ آپ نے اپنے زانوں پر رکھا آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے غور نہیں کیا یہ حلہ کتنا اچھا ہے ایک دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ حلہ مجھے پہننے کے لئے دیدیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی آپ سے کوئی چیز مانگی جاتی تھی ، تو آپ مانگنے والے کو کسی بھی چیز کے بارے میں ” نہ “ نہیں کہتے تھے آپ نے فرمایا : ٹھیک ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو چادریں منگوائیں وہ پہن لیں اور وہ حلہ اس دیہاتی کو دیدیا پھر آپ نے اس کے جیسا ایک اور حلہ تیار کرنے کا حکم دیا وہ ابھی تیار نہیں ہوا تھا کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے ، جو ” مشملہ “ کے بارے میں ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8573
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (5920)»