حدیث نمبر: 8559
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَاحَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ حَاجًّا ، وَدَخَلَتْ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَتُهُ فَبَاتَ مَعَهَا حَتَّى أَصْبَحَ ، ثُمَّ غَدَا عَلَيْهِ رَدْعُ الطَّيِّبِ ، وَمِلْحَفَةٌ مُعَصْفَرَةٌ مُفَدَّمَةٌ ، فَأَدْرَكَ النَّاسَ بِمَلَلٍ قَبْلَ أَنْ يَرُوحُوا فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ انْتَهَرَهُ وَأَفَّفَ وَقَالَ : أَتَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ وَقَدْ نَهَى عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَنْهَهُ وَلَا إِيَّاكَ إِنَّمَا نَهَانِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے محمد بن جعفر بن ابوطالب کی اہلیہ أن ( یعنی محمد بن جعفر ) کے پاس آئیں اور انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ رات گزاری یہاں تک کہ جب صبح ہوئی ، تو ان کے جسم سے خوشبو کے بھپکے اُٹھ رہے تھے اور انہوں نے معصفر کپڑا اوڑھا ہوا تھا ، جو مفدم تھا ، انہوں نے لوگوں کو ” ملل ، میں پایا ، وہ ابھی روانہ نہیں ہوئے تھے ، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو انہیں ڈانٹا اور انہیں ” ف“ کہا: اور فرمایا : کیا تم نے معصفر لباس پہنا ہوا ہے ؟ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: اللہ کے رسول نے اسے یا آپ کو اس سے منع نہیں کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عبداللہ بن موہب ہے ، جسے یحیی بن معین نے ، ایک روایت کے مطابق ثقہ قرار دیا ہے ، ویسے اسے ضعیف کہا: گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8559
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (517)»