مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْبُرُودِ . باب: چادروں کا بیان
عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ السَّلَمِيَّ [ عَنْ جَزْءٍ ] أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَسِيرٍ كَانَ عِنْدَهُ مِنْ صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانُوا أَسَرُوهُ وَهُمْ مُشْرِكُونَ ، ثُمَّ أَسْلَمُوا فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَلِكَ الْأَسِيرِ فَكَسَا جَزْءًا بُرْدَيْنِ ، وَأَسْلَمَ جَزْءٌ عِنْدَهُ ثُمَّ قَالَ : " ادْخُلْ عَلَى عَائِشَةَ تُعْطِيكَ مِنَ الْأَبْرَادِ الْتِي عِنْدَهَا بُرْدَيْنِ " فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ : نَضَّرَكِ اللَّهُ اخْتَارِي مِنْ هَذِهِ الْأَبْرَادِ الْتِي عِنْدَكِ بُرْدَيْنِ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَسَانِي مِنْهَا بُرْدَيْنِ فَقَالَتْ وَمَدَّتْ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ طَوِيلًا فَقَالَتْ : خُذْ هَذَا وَخُذْ هَذَا وَكَانَ نِسَاءُ الْعَرَبِ حِينَئِذٍ لَا تُرَيْنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا حبان بن جزء سلمی رضی اللہ عنہ ، سیدنا جزء رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ اس قیدی کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جو قیدی ان کے پاس تھا ، اور جو صحابی تھا ( یہ اس وقت کی بات ہے ) جب وہ لوگ مشرک تھے ، تو انہوں نے اس کو قید کیا تھا پھر وہ لوگ مسلمان ہو گئے ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس قیدی کو ساتھ لے کے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جزء رضی اللہ عنہ کو دو چادریں دیں ، سیدنا جزء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کے پاس جاؤ ! وہ تمہیں اپنے پاس موجود چادروں میں سے دو چادریں دیدی گئی ، وہ صاحب ، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، اور بولے : اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے آپ اپنے پاس موجود چادروں میں سے میرے لئے دو چادریں منتخب کر لیں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے میرے لئے دو چادریں پہننے کے لئے دی ہیں ، راوی کہتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک طویل پیلو کی مسواک پکڑی ہوئی تھی ، وہ پھیلاتے ہوئے انہوں نے کہا: تم یہ لے لو اور یہ لے لو ! ان دنوں عربوں کی خواتین نظر نہیں آتی تھیں ۔ ( یعنی وہ پردہ کیا کرتی تھیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ( راویوں کی ) ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔