حدیث نمبر: 8511
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْبَقِيعِ - يَعْنِي بَقِيعَ الْغَرْقَدِ - فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ عَلَى حِمَارٍ وَمَعَهَا مَكَارٌ فَمَرَّتْ فِي وَهْدَةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَسَقَطَتْ ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مُتَسَرْوِلَةٌ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُتَسَرْوِلَاتِ مِنْ أُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُعَلِّمُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ” بقیع “ یعنی بقیع غرقد میں بیٹھا ہوا تھا ، یہ ایک بارش والے دن کی بات ہے ، ایک خاتون گدھے پر سوار ہو کر گزری ، اس کے ساتھ ایک مکار بھی تھا ، جب وہ نیچے والی زمین کے پاس پہنچی ، تو وہ گر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس نے شلوار ( یا پاجامہ ) پہنی ہوئی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ میری امت کی شلوار ( یا پاجامہ ) پہنے والی خواتین کی مغفرت کرے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا معلم ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8511
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2947)»