مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي السَّرَاوِيلِ . باب: شلوار ( یا پاجامہ ) کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ يَوْمًا السُّوقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ إِلَى الْبَزَّازِينَ ، فَاشْتَرَى سَرَاوِيلَ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ ، وَكَانَ لِأَهْلِ السُّوقِ وَزَّانٌ يَزِنُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اتَّزِنْ وَأَرْجِحْ " فَقَالَ الْوَزَّانُ : إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ مَا سَمِعْتُهَا مِنْ أَحَدٍ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ لَهُ : كَفَى بِكَ مِنَ الرَّهَقِ وَالْجَفَاءِ فِي دِينِكَ أَلَّا تَعْرِفَ نَبِيَّكَ ؟ فَطَرَحَ الْمِيزَانَ وَوَثَبَ إِلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ أَنْ يُقَبِّلَهَا ، فَحَذَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ مِنْهُ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ إِنَّمَا يَفْعَلُ هَذَا الْأَعَاجِمُ بِمُلُوكِهَا وَلَسْتُ بِمَلِكٍ إِنَّمَا أَنَا رَجُلٌ مِنْكُمْ " . فَوَزَنَ وَأَرْجَحَ وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّرَاوِيلُ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَذَهَبْتُ لِأَحْمِلَهُ عَنْهُ فَقَالَ : " صَاحِبُ الشَّيْءِ أَحَقُّ بِشَيْئِهِ أَنْ يَحْمِلَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ضَعِيفًا فَيَعْجِزَ عَنْهُ فَيُعِينُهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّكَ لِتَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ ؟ قَالَ : " أَجَلْ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، وَفِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، فَإِنِّي أُمِرْتُ بِالسِّتْرِ فَلَمْ أَجِدْ شَيْئًا أَسْتَرَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بازار میں داخل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑا فروخت کرنے والوں کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ نے چار درہم کے عوض میں ایک شلوار خریدی ( یا پاجامہ خریدا ) بازار والوں میں ایک وزان تھا جو وزن کیا کرتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم وزن کرتے ہوئے ( دوسرے فریق کے پلڑے کو ) بھاری رکھنا وزان نے کہا: یہ کلمہ میں نے اس سے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے اس سے کہا: تمہاری کم عقلی کے لئے ، اور تمہارے دین میں جفا کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم نے اپنے نبی کو نہیں پہچانا ، اس نے پلڑے کو ایک طرف رکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی طرف جھک گیا وہ اسے بوسہ دینا چاہتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑوایا اور فرمایا : یہ کیا ہے عجمی لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ، میں بادشاہ نہیں ہوں ، میں تم میں سے ایک فرد ہوں ، پھر اس شخص نے وزن کرتے ہوئے دوسرے کے پلڑے کو بھاری رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ شلوار ( یا پاجامہ ) لے لیا ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آگے بڑھاتا کہ میں اسے اُٹھا لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چیز والا شخص ، اپنی چیز کو اٹھانے کا زیادہ حق رکھتا ہے ، البتہ اگر وہ ضعیف ہو ، اور اسے اٹھانے سے عاجز ہو ، تو پھر اس کا مسلمان بھائی اس کی مدد کر دے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ شلوار پہنیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! سفر اور حضر کے دوران ، اور رات میں اور دن میں ( اسے استعمال کروں گا ) کیونکہ مجھے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں نے ایسی کوئی چیز نہیں پائی جو اس سے زیادہ پردہ والی ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن زیاد بصری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔