مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا باب: جب آدمی نیا کپڑا پہنے ، تو کیا پڑھے ؟
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً فَعَلِمَ أَنَّهَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا شُكْرًا قَبْلَ أَنْ يَحْمَدَهُ عَلَيْهَا ، وَمَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَنَدِمَ عَلَيْهِ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مَغْفِرَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَغْفِرَهُ ، وَمَا اسْتَجَدَّ عَبْدٌ ثَوْبًا بِدِينَارٍ أَوْ نِصْفِ دِينَارٍ فَحَمِدَ اللَّهَ حِينَ يَلْبَسُهُ إِلَّا لَمْ يَبْلُغْ رُكْبَتَيْهِ حَتَّى يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمِنْقَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے پر کوئی نعمت کرے اور وہ بندہ یہ بات جانتا ہو کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے ، اس شخص کے حق میں شکر کو نوٹ کر لیتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ اس نعمت کے حوالے سے بندہ اس کی حمد بیان کرے اور جب کوئی بندہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ، اور پھر اس پر ندامت کا شکار ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے مغفرت طلب کرنے سے پہلے اس کی مغفرت کو نوٹ کر لیتا ہے ، اور جب کوئی بندہ ایک دینار یا نصف دینار کے عوض میں کوئی نیا کپڑا خریدے اور اس کو پہنتے وقت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے ، تو وہ کپڑا بھی اس کے گھٹنوں تک نہیں پہنچا ہو تاکہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد منقری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔