مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب اللباس— لباس کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا باب: جب آدمی نیا کپڑا پہنے ، تو کیا پڑھے ؟
عَنْ أَبِي مَطَرٍ أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ إِلَى مَا بَيْنَ الرُّسْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " . فَقِيلَ : هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ عِنْدَ الْكُسْوَةِ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَانْتَهَيْنَا إِلَى السُّوقِ الْكَبِيرِ فَتَوَسَّمَ شَيْخًا مِنْهُمْ فَقَالَ : يَا شَيْخُ أَحْسِنْ بَيْعَتِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ ، قَالَ : نَعَمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا ، وَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . ¤ابومطر بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ، اور اس سے تین درہم کے عوض میں انہوں نے ایک قمیص خریدی وہ انہوں نے پہن لی ، جو ان کی پنڈلی سے ٹخنوں تک تھی اسے پہننے کے وقت انہوں نے یہ پڑھا : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ، جس نے مجھے لباس کے حوالے سے وہ چیز عطا کی ہے ، جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کرتا ہوں ، اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لیتا ہوں“ ان سے دریافت کیا گیا : کیا یہ چیز آپ اپنی ذات کے حوالے سے پڑھ رہے ہیں ؟ یا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم لباس پہنتے وقت یہ پڑھتے تھے : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے لباس میں سے وہ عطا کیا ہے ، جس کے ذریعے میں لوگوں کے درمیان جمال اختیار کروں ، اور اس کے ذریعے اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ہم بڑے بازار میں آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان میں سے ایک بڑی شخص کی عمر کے پاس آئے ، اور بولے : اے بڑی عمر کے شخص ! تم تین درہم کے عوض میں قمیص کے بارے میں میرے ساتھ اچھی طرح سودا کرو ، اس نے کہا: ٹھیک ہے اے امیر المؤمنین ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا کہ وہ ان کو پہچان چکا ہے ، تو انہوں نے اس سے کچھ نہیں خریدا ، پھر وہ ایک کمسن لڑکے کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔