مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوَعَكُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُعَلِّمُكَ رُقْيَةً رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَعْنِيكَ ، خُذْهَا فَلْيَهْنِيكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِيمَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى فِي الْأَذْكَارِ وَفِي الِاسْتِعَاذَةِ أَيْضًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ کو تکلیف تھی ، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے دم کی تعلیم نہ دوں ؟ جو جبرائیل نے مجھے کیا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( اس کے کلمات ہیں : ) ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، میں تمہیں دم کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ہر بیماری سے شفاء عطا کرے ، جو تمہیں لاحق ہے ( یا جس کو تم ٹھیک کروانا چاہتے ہو ) “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تم اسے حاصل کرو ! تمہیں اس ( کا علم ہونے ) کی مبارک ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی دیگر احادیث آگے چل کے آئیں گی ، جو ” اذکار “ سے متعلق باب میں اور ” پناہ مانگنے “ سے متعلق باب میں آئیں گی کہ صبح شام کے وقت کیا پڑھنا چاہیے ؟ اگر اللہ نے چاہا ۔