مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الرُّقَى لِلْعَيْنِ وَالْمَرَضِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نظر لگنے ، بیماری ، یا س کے علاوہ کسی چیز کے لئے دم کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : عَمْرُو بْنُ حَنَّةَ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى ، وَأَنَا أَرْقِي مِنَ الْحَيَّةِ ، قَالَ : " قُصَّهَا عَلَيَّ " . فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِهَذِهِ ، هَذِهِ مَوَاثِيقُ " . ¤ قَالَ : وَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَكَانَ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ ، فَقَالَ : " مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام عمرو بن حنہ تھا ، اور وہ سانپ کے ڈسنے کا دم کیا کرتا تھا ، وہ آیا ، اور اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے دم کرنے سے منع کر دیا ہے ، اور میں سانپ کے ڈسنے کا دم کرتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے کلمات مجھے سناؤ ، اس نے آپ کے سامنے وہ کلمات بیان کیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان میں کوئی حرج نہیں ہے ، یہ مواثیق ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کے پاس آیا ، وہ بچھو کا دم کیا کرتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی نفع پہنچائے ، تو اسے ایسا کر لینا چاہیے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے ، شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔