حدیث نمبر: 8418
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " مَنْ يُبَلِّغُنَا مِنْ لِقَاحِنَا ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : صَخْرٌ أَوْ جَنْدَلٌ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اجْلِسْ " ثُمَّ قَالَ : " مَنْ يُبَلِّغُنَا لَبَنَ لِقَاحِنَا ؟ " فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا اسْمُكَ ؟ " قَالَ : يَعِيشُ ، قَالَ : " بَلِّغْنَا مِنْ لِقَاحِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى رَوَى عَنْهُ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِّيُّ وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کون ہماری اونٹنیوں میں سے ( دودھ ) ہم تک پہنچائے گا ؟ ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : صخر ، یا شاید جندل کہا: ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ہماری اونٹنیوں کا دودھ ہم تک پہنچائے گا ؟ ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : تمہارا نام کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یعیش ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہماری اونٹنیوں میں سے ( دودھ ) ہم تک پہنچا دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن اسد بن موسیٰ ہے ، ابوزرعہ رازی نے اس سے روایت نقل کی ہے ، کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (292/17)»