مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي : أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ أَصَابَهُ وَجَعٌ يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ : الذَّبْحُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَأُبْلَيَنَّ - أَوْ لَأَبْلُغَنَّ - فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا " . قَالَ : فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَيْتَةُ سُوءٍ لِلْيَهُودِ تَقُولُ : أَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ ؟ وَلَا أَمَلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي مِنَ اللَّهِ شَيْئًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد بن عبدالرحمن بن اسد بن زرارہ بیان کرتے ہیں : میرے چچا نے مجھے یہ بات بتائی ہے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو ایک تکلیف لاحق ہوئی جسے اہل مدینہ ذبح کہتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ تک ابوامامہ کے بارے میں عذر پہنچ جائے گا راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے انہیں داغ لگایا اور ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہودیوں کے لئے بری موت ہے جو یہ کہتے ہیں : کہ ان صاحب نے اپنے ساتھی سے تکلیف کو دور کیوں نہیں کروایا میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اس کے لئے یا اپنے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔