مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكَيِّ باب: داغ لگوانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ : ¤ أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَخُوهُ وَقَدْ سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَخِي سُقِيَ بَطْنُهُ ، فَأَتَيْنَا الْأَطِبَّاءَ فَأَمَرُونِي بِالْكَيِّ ، أَفَأَكْوِيهِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَكْوُوهُ ، وَرَدَّهُ إِلَى أَهْلِهِ " . فَمَرَّ بِهِ بِعِيرٌ فَضَرَبَ بَطْنَهُ ، فَانْخَمَصَ بَطْنُهُ ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَ بِهِ الْأَطِبَّاءَ قُلْتَ : النَّارُ شَفَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ اس کا بھائی بھی تھا ، جسے پیچش لگے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بھائی کو پیچش لگے ہوئے ہیں ، ہم طبیبوں کے پاس گئے ، انہوں نے داغ لگوانے کی ہدایت کی ، کیا میں اسے داغ لگوا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے داغ نہ لگواؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس کے گھر واپس بھجوا دیا ایک اونٹ اس شخص کے پاس سے گزرا اس نے اس شخص کے پیٹ پر مارا ، تو اس کی وجہ سے اس کا پیٹ ٹھیک ہو گیا ، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم طبیبوں کے پاس گئے ہوتے ، تو تم نے یہ کہنا تھا کہ آگ نے اسے شفاء دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ خزاز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔