حدیث نمبر: 8324
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّامًا فَحَجَّمَهُ بِقَرْنٍ وَشَرَطَ بِشَفْرَةٍ ، فَرَآهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَازَةَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ لَحْمَكَ ؟ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا ؟ هَذَا الْحَجْمُ ، وَهُوَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا حُصَيْنَ بْنَ أَبِي الْحُرِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگانے والے کو بلوایا اس نے سینگ اور چھری کے ذریعے آپ کو پچھنے لگائے ، بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے آپ کو دیکھا تو عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کو کیوں موقع دے رہے ہیں کہ یہ آپ کا گوشت کاٹ دے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کام ہے یہ پچھنے لگوانا ہے ، اور یہ ان سب میں بہتر ہے جو تم دواء ( یعنی علاج ) کے طور پر استعمال کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حصین بن ابوحر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6785)»