مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الشُّونِيزِ وَالْعَسَلِ وَالْكَمْأَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: کلونجی ، شہد ، کھنبی اور دیگر چیزوں کا بیان
وَعَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبَعِينَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي إِلَى الْمَقَامِ ، وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَلَمَّا صَلَّى أَهْوَى بِيَدِهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَثَارُوا ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ اجْلِسُوا ، فَجَلَسُوا ، فَقَالَ : ¤ " رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا ، وَإِنَّهَا مَرَّتْ بِي خُصْلَةٌ مِنْ عِنَبٍ فَأَعْجَبَتْنِي ، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا ، فَسَبَقَتْنِي ، وَلَوْ أَخَذْتُهَا لَغَرَزْتُهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ ، وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ ، وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ الْتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ الْإِمَامَ أَحْمَدَ قَالَ : سَمِعَ زُهَيْرَ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ، وَصَالِحَ بْنَ حَيَّانَ فَجَعَلَهُمَا وَاحِدًا . قُلْتُ : وَاصِلٌ ثِقَةٌ ، وَصَالِحُ بْنُ حَيَّانَ ضَعِيفٌ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ وَاصِلٍ فِي الظَّاهِرِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ مِنْ رِوَايَةِ صَالِحٍ أَيْضًا . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیالیس افراد موجود تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے تھے یہ لوگ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے آپ کا انتظار کر رہے تھے جب آپ نے نماز مکمل کر لی ، تو آپ نے اپنا ہاتھ اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان موجود جگہ کی طرف بڑھایا یوں جیسے آپ کچھ پکڑنا چاہ رہے ہوں جب آپ اپنے اصحاب کی طرف مڑے ، تو وہ لوگ اٹھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھے رہو وہ لوگ بیٹھے رہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگوں نے مجھے دیکھا کہ میں نماز سے فارغ ہوا تو میں نے اپنا ہاتھ خانہ کعبہ کی طرف بڑھایا یوں جیسے میں کچھ پکڑنا چاہتا ہوں لوگوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت کو میرے سامنے پیش کیا گیا میں نے اس میں موجود چیزوں جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی پھر میرے سامنے انگوروں کا ایک گچھہ آیا وہ مجھے اچھا لگا میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ میں اسے پکڑ لوں لیکن وہ میرے ہاتھ نہیں آیا اگر میں اسے پکڑ لیتا اور اسے تمہارے درمیان گاڑ دیتا تو تم جنت کے پھل کھاتے رہتے تم لوگ یہ بات جان لو کہ کھنبی آنکھ کے لئے دواء ہے ، اور عجوہ جنت کے پھلوں میں سے ہے ، اور یہ سیاہ دانہ ( کلونجی ) جو نمک میں ہو ، یہ موت کے علاوہ ہر بیماری کی دواء ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام أحمد بن حنبل فرماتے ہیں : زہیر نے واصل بن حیان سے سماع کیا ہے ، اور صالح بن حیان سے سماع کیا ہے ، تو انہوں نے ان دونوں کو ایک ہی فرد قرار دیدیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں واصل ثقہ ہے ، اور صالح بن حیان ضعیف ہے ، اور
یہ روایت واصل کی ہے ، بظاہر یہی لگتا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ انہوں نے
یہ روایت اختصار کے ساتھ صالح کی ساتھ صالح کی نقل کردہ روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے ۔