مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطب— طب کے بارے میں روایات
كِتَابُ الْخِلَافَةِ . 23 - 1 - 1 - بَابُ الْخُلَفَاءِ الْأَرْبَعَةِ . 8907 عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْجُمَلِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا عَهْدًا نَأْخُذُ بِهِ فِي إِمَارَةٍ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ رَأَيْنَاهُ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ - عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى عُمَرَ فَأَقَامَ وَاسْتَقَامَ حَتَّى ضَرَبَ الدِّينُ بِجُرَّانِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . باب: دواء اور بیماری کی تخلیق
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، أَنَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَحَ بَابًا مِنَ الْمَغْرِبِ مَسَافَتُهُ سَبْعُونَ خَرِيفًا لِلتَّوْبَةِ ، لَنْ يُغْلِقَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَمَا غَدَا رَجُلٌ يَلْتَمِسُ عِلْمًا إِلَّا أَفْرَشَتْهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا ؛ رِضَاءً بِمَا يَعْمَلُ " . ¤ قَالَتِ الْعَرَبُ عِنْدَ ذَلِكَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ يُعْطِ اللَّهُ عَبْدًا خَلَّةً وَاحِدَةً خَيْرٌ ؟ قَالَ : " حُسْنُ الْخُلُقِ " . ثُمَّ قَالُوا لَهُ : أَنَتَدَاوَى ؟ قَالَ : " هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الدَّاءَ أَنْزَلَ الدَّوَاءَ ، وَلَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " الْهَرَمُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ التَّدَاوِي وَحُسْنُ الْخُلُقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مغرب کی سمت میں ایک دروازہ کھولا ہے جس کی ( چوڑائی ) ستر برس کی مسافت جتنی ہے یہ توبہ کے لئے مخصوص ہے ، اور اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا ، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا ، جو شخص علم کے حصول کے لئے لکھتا ہے ، تو فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں ، وہ اس عمل کے لئے ایسا کرتے ہیں ، اس موقع پر عربوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کو کوئی ایسی عادت عطا نہیں کی ہے ، جو زیادہ بہتر ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اچھے اخلاق ہیں ، پھر لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم دوا استعمال کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جس ذات نے بیماری کو نازل کیا ہے ، اس نے دوا کو بھی نازل کیا ہے ، اس نے جو بھی بیماری نازل کی ہے ، اس کے لئے دوا بھی نازل کی ہے ، البتہ ایک بیماری کا معاملہ مختلف ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بڑھاپا “ ۔ ( علامہ بیٹی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے جس میں دوا استعمال کرنے اور اچھے اخلاق کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔