مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابُ سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ باب: لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں ( خود پیئے گا )
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ ، فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ . قَالَ : فَجَعَلَ يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " [ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ] حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " فَقَطْ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سفر کر رہے تھے ، ہمیں پانی نہیں ملا ، کچھ دیر بعد ہم پانی تک پہنچے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی دینا شروع کیا ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لے کے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کو پلانے والا آخر میں ( خود پیتا ہے ) یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، یہاں تک کہ اُن سب لوگوں نے پانی پی لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” لوگوں کو پلانے والا ، اُن کے آخر میں ( خود پیتا ہے ) “ ۔