مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأشربة— مشروبات کے بارے میں روایات
بَابٌ بِمَنْ يَبْدَأُ إِذَا فَرَغَ الشَّرَابُ ثُمَّ جِيءَ بِشَرَابٍ غَيْرِهِ باب: جب مشروب ختم ہو جائے ، اور پھر دوسرا مشروب آئے ، تو کس سے آغاز کیا جائے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ بُسْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهُمْ وَهُوَ رَاكِبٌ عَلَى بَغْلَةٍ ، كُنَّا نَدْعُوهَا حِمَارَةً شَامِيَّةً ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، فَقَامَتْ أُمِّي فَوَضَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطِيفَةً عَلَى حَصِيرٍ فِي الْبَيْتِ ، جَعَلَتْ تُوَثِّرُهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَطَيَّبَ الْحَصِيرُ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ : فَقَدَّمَ لَهُمْ أَبِي بُسْرٌ تَمْرًا لِيَشْغَلُهُمْ بِهِ ، وَأَمَرَ أُمِّي فَصَنَعَتْ لَهُمْ جَشِيشًا . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فِيمَا بَيْنَ أَبِي وَأُمِّي ، وَكَانَ أَبِي الْقَائِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَلَمَّا فَرَغَتْ أُمِّي مِنَ الْجَشِيشِ ، جِئْتُ أَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعْتُهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَأَكَلُوا ، ثُمَّ سَقَاهُمْ فَضِيخًا ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَقَى الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ أَخَذْتُ الْقَدَحَ حِينَ نَفِدَ مَا فِيهِ ، فَمَلَأْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَعْطِهِ الَّذِي انْتَهَى الْقَدَحُ إِلَيْهِ " . فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الطَّعَامِ دَعَا لَنَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ ، وَارْحَمْهُمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي رِزْقِهِمْ " . فَمَا زِلْنَا نَتَعَرَّفُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السِّعَةَ فِي الرِّزْقِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ نَفْسِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ . ¤سیدنا عبدالله بن بسر ، اپنے والد سیدنا بسر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ خچر پر سوار تھے ، ہم اسے شامی گدھا کہتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے میری والدہ اُٹھیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک چٹائی بچھا دی ، جو گھر میں موجود تھی وہ اس چٹائی کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سنبھال کے رکھتی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے ، تو اس چٹائی سے خوشبو آتی تھی ۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد سیدنا بسر رضی اللہ عنہ نے کھجوریں ان حضرات کے سامنے رکھیں ، تاکہ وہ ان کو کھانا شروع کریں اور انہوں نے میری والدہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان لوگوں کے جشیش تیار کر دیں ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اپنی والدہ اور والد کے لئے خدمت کا کام میں ہی کیا کرتا تھا ، میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے پاس کھڑے ہو گئے ، جب میری والدہ جشیش بنا کے فارغ ہوئیں ، تو میں اسے اٹھا کر لایا اور ان حضرات کے سامنے رکھ دیا ، ان حضرات نے اسے کھایا ، پھر میرے والد نے انہیں فضیخ ( نامی مشروب ) پلایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا ، پھر اس شخص کو پینے کے لئے دیا جو آپ کے پاس موجود تھا ، جب اس میں موجود مشروب ختم ہو گیا ، تو میں نے وہ پیالہ پکڑ لیا ، پھر میں نے اسے دوبارہ بھرا پھر وہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس شخص کو دو ، جس تک پیالہ پہنچا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے ، تو آپ نے ہمیں دعا دیتے ہوئے یہ کہا: ” اے اللہ ! تو ان کی مغفرت کر دے ، ان پر رحم کر اور ان کے رزق میں ان کے لئے برکت رکھ دے “ ۔ تو اس کے بعد ، ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ، مسلسل رزق میں گنجائش دیکھتے آ رہے ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ ، سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ، اور یہ روایت اُن کے والد کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس کے بقیہ رجال کی نقل کردہ حدیث حسن یا صحیح ہوتی ہے ۔