حدیث نمبر: 8254
وَعَنْ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَرِبَّيْنِ فَهَجَمَ عَلَيْهِ شَوَائِلُ لَهُ ، فَسَقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَةَ إِنَائِهِ فَامْتَلَأَ بِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لِأَشْرَبُ السَّبْعَةَ فَمَا أَمْتَلِئُ ؟ ! قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَإِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كَمَا ذَكَرَهُ السَّيِّدُ الْحُسَيْنِيُّ عَنِ ابْنِ حِبَّانَ . ¤ وَقَدْ ذَكَرَ شَيْخُنَا لِلشَّيْخِ صَلَاحِ الدِّينِ الْعَلَائِيِّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - أَنَّ ابْنَ حِبَّانَ لَمْ يَذْكُرْ بَعْضَهُمْ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ وَأَمَّا أَبُو يَعْلَى فَإِنَّهُ قَالَ : عَنْ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ : أَنَّ نَضْلَةَ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كَانَ مَعْنٌ صَحَابَيًّا وَإِلَّا فَهُوَ مُرْسَلٌ عِنْدَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا نضلہ بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” مرمین “ کے مقام پر ، ان کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، ان کی اونٹنیاں اچانک ان کے پاس آ گئیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلایا پھر برتن میں بچا ہوا پی لیا ، اور اسے بھر دیا ، پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے ، تو میں سات ( گلاس ، یا برتن ) پی کر بھی سیر نہیں ہوتا تھا ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک مومن ایک آنت میں پیتا ہے ، اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں جیسا کہ سید حسینی نے ابن حبان کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ۔ ہمارے شیخ نے صلاح الدین علائی کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ ابن حبان نے ان میں سے بعض کا ذکر نہیں کیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ جہاں تک امام ابویعلیٰ کا تعلق ہے ، تو انہوں نے یہ کہا: ہے کہ معن بن نضلہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے سیدنا نضلہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، اگر تو سیدنا معن رضی اللہ عنہ صحابی ہیں ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ
یہ روایت ان کے نزدیک مرسل ہو گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8254
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2905) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1584 و 1585) اخرجه احمد فى المسند (336/4)»