حدیث نمبر: 8085
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمِرْبَدِ ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ فَكُنْتُ عَنْ يَمِينِهِ فَأَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَتَأَخَّرْتُ لَهُ وَكَانَ عَنْ يَمِينِهِ وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ، ثُمَّ أَقْبَلُ عُمَرُ فَتَنَحَّيْتُ لَهُ وَكَانَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِرْبَدَ فَإِذَا أَنَا بِزِقَاقٍ فِيهَا خَمْرٌ . قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمُدْيَةِ قَالَ : وَمَا عَرَفْتُ الْمُدْيَةَ ، إِلَّا يَوْمَئِذٍ ، فَأَمَرَ بِالزِّقَاقِ فَشُقَّتْ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا: أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَفِي الْآخِرِ أَبُو طُعْمَةَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ ، وَضَعَّفَهُ مَكْحُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مربد کی طرف تشریف لے گئے میں بھی آپ کے ساتھ نکلا میں آپ کی دائیں طرف تھا اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، تو میں ان کی خاطر پیچھے ہٹ گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف آ گئے ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہو گیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، تو میں ان کے لئے پیچھے ہٹ گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مربد تشریف لائے ، تو وہاں کچھ مشکیزے موجود تھے جن میں شراب تھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چھری منگوائی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : مجھے لفظ مدیہ کا اس دن پتہ چلا ( کہ یہ چھری کے لئے استعمال ہوتا ہے ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے بارے حکم دیا تو انہیں چیر دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے ایک کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی ابوطعمہ ہے ، جسے محمد بن عبداللہ بن عمار موصلی نے ثقہ قرار دیا ہے مکحول نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8085
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5390)»